بچوں کی نفسیات
آپ سب کی خدمت میں میرا سلام پہنچے۔
بچے کی نفسیات کے بارے میں بہت سی دلیلیں ایک دوسرے کے متضاد بھی ملتی ہیں کہ یہ بچہ کام کرتا ہے کہ یا نہیں کرتا، تو میرا اس سے کوئی تعارف نہیں تھا۔ اور میں سائیکالوجی کے بارے میں اتنا کچھ نہیں جانتا تھا جتنا کہ میرے ہم سفر جانتے تھے۔ میرا یہ واقعہ 1952ء کا ہے اور یہ مجھے شہزاد کی فرمائش پر پھر یاد آرہا ہے۔ بہت دیر کی بات ہے۔ میں 1952ء میں ملک روم میں تھا۔ روم یونیورسٹی میں اردو پڑھاتا تھا اور ساتھ ساتھ فرانسیسی اور اطالوی پڑھتا تھا۔ وہاںپرہمارا ایک دوست تھا مسودی ریاک۔ وہ بہت اچھا مصور تھا۔ میرا بہت اچھے سے مراد یہ کہ اس کی تصویریں گاہے بگاہے بک جاتی تھیں اور وہ ہمارا دوست تھا۔ دوست تھا تو اس کے ساتھ ادھر اللے تللے کرنے میں روم گھوم پھر لیتا تھا۔ وہ اچھا شریف آدمی تھا۔ ہمیں بہت آسانی ہوتی تھی، کیونکہ اس کے پاس کچھ پیسے ہوتے تھے۔ ہم تین دوست تھے۔ ریاک ، میں اور ایک ہری چند، جو ہندوستان کا تھا۔ ہم اس تاڑ میں رہتے تھے کہ کوئی اچھا سا موقع ہمیں ایسا ملے کہ جہاں پر ہم پیسے خرچے بغیر گھوم سکیں اور اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکیں کیونکہ پتا نہیں کتنی دیر یورپ میں رہنا ہے۔ تو ان دنوں 31 دسمبر 1952ء کو ریاک کی ایک تصویر بک گئی تو اس نے کہا، میں تمھاری دعوت کروں گا۔ وییاوینی تو کے اوپر ، جہاں پر ایمبیسٹر ہیں۔ بہت قیمتی سڑک ہے جیسے ہمارے ہاں شارع قائد اعظم ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں جس کا نام علی بابا چالیس چور تھا۔ وہ ایک بہت بڑا ریسٹورنٹ تھا۔ ایک بیسمنٹ میں۔ ریستوران میں بڑے خوبصورت چالیس مرتبان تھے، ستونوں کی جگہ بنے ہوئے۔ اور اس کے اوپر بڑی چھت اٹھائی ہوئی تھی اور اس کے اندر آرکسٹرا بڑا خوبصورت بجتا تھا۔ ہماری خوش قسمتی کہ وہاں عام طور پر ایکٹر لوگ زیادہ جاتے تھے۔ عام آدمی کی وہاں اتنی پہنچ نہیں تھی کہ وہاں پہنچ سکتا یہ جو ہمارا انتھونی کوئن تھا، اس کو وہاں آنے کا بہت شوق تھا۔ انتھونی کوئن کی ایک بڑی عجیب و غریب عادت تھی کہ عورتوں جیسا مزاج تھا اس کا۔ ہر وقت اپنے ساتھ ایک شیشہ رکھتا تھا ، دو منٹ بعد نکال کے تھوڑی دیر بعد لپ اسٹک لگاتا تھا۔ اتنا نازک مزاج اور یوں کرکے بال۔ انتھونی کوئن سے ہم بہت متاثر تھے۔ وہاں کے لوگ بھی متاثر تھے۔ اور پھر اس سے وہاں ملنا ہوا۔ انہی دنوں ہمارے مشرقی پاکستان کے ربیع الدین وہاں پر فلم ڈائریکشن کی کچھ تعلیم لینے آگئے۔ ہماری ایویننگ کلاسیں ہوتی تھیں، اس لیے میں نے انہوں نے کہا، چھ مہینے کا کورس ہے اس میں آپ کو پتہ چلے گا کہ ڈرامہ کیسے لکھا جاتا ہے۔ لائٹنگ کیسے کی جاتی ہے۔ تو چینی چتا ہم جانے لگے۔
ہمارے جو استاد تھے۔ پرنسپل تھے، ریکٹر تھے وہ تھے وکٹوریہ ڈسیکا۔ ان کی ایک بہت مشہور بائیسکل تھے۔ تو ڈسیکا صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ لیکن ہم ڈسیکا صاحب سے نہ تو اتنا ڈرتے کیونکہ ان کامزاج اچھا نہ تھا ،اور نہ ان سے اتنا زیادہ متاثر تھے جتنے ان ایکٹروں سے جن کا پینترا اور طرح کا تھا۔ تو ایک دفعہ انہوں نے ہم سے کلاس میں پوچھا۔"بھئی بتاؤ کہ سب سے زیادہ مشکل رول کون سا ہے جو ایکٹر کر سکتا ہے؟" مجھے بات یاد آگئی۔ ہم سب نے ہاتھ کھڑے کیے تقریبا لڑکے لڑکیوں کا مشترکہ جواب تھا کہ ہنچ بیک آف نوٹرے ڈم بہت مشکل ہے۔ تو استاد محترم نے فرمایا، دنیا میں سب سے آسان رول ہنچ بک آف ناسٹرڈم بہت مشکل رول ہے۔ کیونکہ ٹوٹی ہوئی ناک، گندی شکل ، بدنصیب آدمی، ساری ہمدردیاں اس کے ساتھ، وہ رول تو کوئی بھی آدمی کرسکتا ہے۔ وہ تو سب سے آسان ہے۔ ہنچ بیک آف نوٹرے ڈم، اگر کسی نے کیا ہے تو آپ اسے بڑا ایکٹر نہ مانیں۔ مشکل ترین رول یہ ہے کہ عام گھرانے کا ایک عام باپ ہے۔ ٹوپی اتار کے رکھتا ہے، چھتری پکڑ کر رکھتا ہے۔ دفتر سے آتاہے اور پھر اس کو اپنا رول کرنا ہے جو سب سے مشکل ہے۔ وہ کیا کرے اس کے پاس کوئی سہارا نہیں؟
یہ بات دوسری طرف چلی گئی ، تو ہم چلے گئے علی بابا چالیس چور والے ریسٹورنٹ میں۔ 31 دسمبر کی رات میں تمھاری وہاں لگواؤں گا، اور تم دیکھو گے کہ دن کس طرح طلوع ہوتا ہے اور سال کس طرح ختم ہوتا ہے۔ کیا کیا کچھ ہنگامہ ہوتا ہے۔ ہم بڑے خوش تھے ۔ ہم وہاں چلے گئے تو جا کے جب دیکھا تو چھماچھم بینڈ باجے بج رہے ہیں اور دنیا جہاں کے ایکٹر ایکٹرس آئے ہوئے ہیں۔ سارے تقریبا وہاں پر موجود تھے اور وہ بڑا اچھا زمانہ تھا۔ جب پوسٹ واسل میں اٹلی کی بن رہی تھی عمارتیں ، جب وہاں گئے تو وہاں سٹیج کے اوپر بلیک نیگرو تھے۔ اس زمانے میں بلیک ڈرمر کا بہت رواج تھا ۔ اب نہیں رہا ۔ بیٹ بہت پیاری تھی ۔ ہر ایک کا ناچنے کو دل کررہا تھا۔ اچانک ریاک اٹھا ، ہم سمجھے شائد کوئی اپنی چیز ڈرنک، کوئی سگریٹ لینے گیا ہے۔ جاکراُن سے ملا، میوزک والوں سے۔ پھر لوٹ کر واپس آگیا تو اچانک ایک اعلان ہوا۔ سینوری سینوری بونیرا چے اون کانتن تے پاکستان وترا دی نصرالی تو میں یہی سمجھا کہ ہمارے درمیان کوئی پاکستانی موجود ہے جو بڑا اچھا گاتا بجاتا ہے۔ میں نےکہا ، شاید ہوگا۔ میں تھوڑا سا کانپا بھی۔ اعلی اے ای پروفسورے اعلیٰ اونستی زاوی روما سوا ونامے کاغذ اٹھایا اشفاق احمد۔ جب انہوں نے یہ کہا تو میری جان عذاب بن گئی۔ مجھے گانے کا پتہ ہی نہیں ہوتا کیا ہے۔ شائد اب یاد ہو۔ اب یہ وہاں نہیں ہو سکتا کہ میرا گلا خراب ہے۔ یوں ہے وہ ہے میں نہیں آسکتا۔ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ برا لگتا ہے ۔ یا اللہ مجھے کچھ ایسی بات یاد دلا کہ میں کیا گاتا؟ ہمیں لب پہ آتی ہے دعا بن کے وہ اس ڈرمر پر نہیں بجا سکتے تھے۔ کچھ میوزک نہیں بج سکتا۔ پھر ڈانس، تو الحمدللہ میں گاؤں کا رہنے والا تھا اور ہمارے سکھ علاقے میں بولیاں وولیاں بہت چلتی تھیں۔ میں اپنی کرسی سے اسٹیج پر جاتے ہوئے سوچتا گیا۔ یا اللہ میں کیا کروں ۔ اچانک ایک بولی یاد آگئی، شاید یہی کچھ کام دے جائے۔ سٹیج پر پہنچ گیا تو سٹیج فیئر ختم ہو گیا۔ کچھ پہلے بھی ، ریڈیو کی دنیا سے تعلق تھا میرا ، وہاں پہنچ گیا۔ اپنے کان پر ہاتھ رکھا، سٹائل جو اپنا ہوتا ہے، میں نے کہا " بودی والا چڑھیا کار کار ہوں۔ وچارا گیڑا گناماں پیالا لیا روپ ہینڈاراں ہزار ہا بھیڈا چاردیاں، بے قدراں دیاں ناریاں بھیڈاں چار دیاں" جب یہ شروع ہوا تو انہوں نے لہر اٹھالی۔ جناب ادھر سے جم چکھدارجم چکھدار شروع ہوگئے۔ مجھے خالی یہ بند یاد آرہا ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں آرہا، میں یہ آدھا گھنٹہ تک اب ونس مور شروع ہوگیا۔ میں وہاں کا ہیرو بن گیا۔ اچھے اچھے گانے والے آئے ہوئے تھے۔ نامور گانے والے پیچھے ہو گئے۔ انہوں نے کہا ، نہیں سینورے نہیں اشفاق احمد دے نی دے دِنال ترولوتا اعلٰی کنتار۔" میں نے کہا، جی بس میرا اتنا ہی گانا تھا۔
اب جب میں بیٹھ گیا تو میں نے کہا، تم سے بعد میں بدلہ لوں گا۔ اب چونکہ مجھے اپنی اتنی شیشک مل رہی ہے تو لوگ آگئے مجھ سے دستخط کروانے آٹوگراف لینے کے لیے، میں اِس کو دے رہا اُس کو دے رہا ہوں۔ اشفاق احمد۔ میں جس میز پر بیٹھا ہوں، وہاں پر ایک معزز چودھری بنا ہوا تھا ۔ دور ایک میز تھی۔ اس پر ایک نہایت گریس فل خاتون تھیں۔ اکیلی چپ چاپ بیٹھی ہوئی تو انہوں نے پلٹ کر ایسے میری طرف دیکھا تو میری بالکل سٹی گم ہو گئی۔ یعنی اس کا کچھ ایسا چارم تھا اس کی پرسنیلٹی اتنی بڑی تھی۔ میں اس کے پاس بہ ادب چلاگیا۔
اس نے کہا ۔ "سی کم دا" میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا گِو می سائن مجھے بھی دیں آٹو گراف۔ میں نے اس پر لکھا، بخد مت ملکہ عالیہ اِنگرڈ برگ مان اور نیچے اپنا نام لکھا۔ اب اس کے بعد وہ انگریزی میں پوچھتی ہے
What you have written?
تو میں نے کہا
I have written your name.
اور یہ مجھے بڑی آرزو تھی۔ میں خوش اس لیے اٹھ کر آگیا تھا کہ اتنے قریب سے اتنی بڑی آرٹسٹ کو دیکھنے کی حسرت تھی۔ تو آپ کی خدمت میں آگیا وہ کہنے لگی
Thank you very much
میں نے کہا،"سنیورو بیر تو رسیلنی سے بھی ملنے کو میرا بڑا جی چاہتا ہے۔ وہ اس کے خاوند تھے جورسیلنی۔ تو اس نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا، مجھے رنگ کریں۔ میں آپ کو وقت دوں گی، فلاں دن اور پھر آپ آئیں۔ تو میں نے وہاں سے آکر سب کو بتایا۔
ایک دن میں نے ٹیلی فون کیا۔ اس نے کہا، آپ آئیں اور دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔ رسیلنی باوجود اس کے کہ وہ سیٹ پر ہوں گے، لیکن انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں آجاؤں گا اور کھانا اکھٹے کھائیں گے۔
This will be sort of family union
ہم تو کو ایک گھر کا بندہ ہی سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا ،جی
I am honored
عزت افزائی کی بات ہے۔ تو لو جی میں وہاں پہنچا، کار چلاتا۔ پولین اسے کہتے تھے۔ تو پولین کے معنی ہیں ، چوھیا۔ چوہیا کار۔ صابن دانی تو آپ لوگوں نے یہاں نام رکھ دیا ہے۔ اُسی کو تو پولین چوہیا کار کہتے ہیں۔ اب میں تو پولینو میں وہاں پہنچا۔ ولا کوئی روم سے 21۔22 کلومیٹر کے فاصلے پر۔ جب میں وہاں پہنچا تو میرا خیال تھا کہ امیر لوگ ہیں تو اچھا خاصا بڑا گھر ہو گا۔ لیکن جی وہ تو اتنا بڑا گھر تھا اور اتنے ایکڑ پر پھیلا ہوا کہ میری سٹی گم گئی اس کو دیکھ کے۔ باہر کھڑے دربان نے پوچھا، آپ کو کس سے ملنا ہے۔ سینوریوپاکستان میں نے۔کہنے لگا، سی کماں دا، اس نے وہاں سے ٹیلی فون کیا۔ اندر سے اسے کہا گیا، ہاں بڑا گیٹ کھول دو، آنے دو اندر۔ اب جب میں نے وہاں بڑا گیٹ کھول کے چھوٹی کار اندرداخل کی تو یہ زندگی شرمندگیوں میں سے ایک تھی۔ انہوں نے کہا گڑ ۔ڑ ۔ڑ۔ بڑا دروازہ کھولا کہ کوئی ملنے والا ہے تو چوہیا اس کے اندر جا رہی ہے۔ مجھے بہت افسوس ہوا ، یا اللہ یہ ایسی کار۔ کاش اس وقت کے لیے اور بڑی مل جاتی، کم از کم لیموزین تو ہوتی۔ میں نے جاکے اسے روکا۔ اس چوکیدار نے کہا، ابھی آپ کو تھوڑا سا پیدل چلنا پڑے گا۔ آگے آپ کو ایک اور برک انداز مِلے گا، باوردی۔ وہ آپ کو لے جائے گا، تو میں نے کہا، بہت اچھا۔ میں پیدل چلتا رہا پٹڑی کے اوپر۔ دونوں طرف بہت خوبصورت لان تھے۔، آگے گئے تو ایک اور باوردی آدمی ملا، اس نے بڑے ادب سے سلام کیا۔ اس نے کہا، آئیے میرے ساتھ ،وہ لے کے چلا۔ ایک برآمدہ بڑا خوبصورت اور اس کے اوپر بیلیں لٹکی ہوئیں۔ اس نے وہاں جاکر کہا، میری حد یہاں ختم ہوتی ہے۔ آپ اب ایک اور صاحب کے ساتھ چلے جائیں۔ ایک اور صاحب جو کہ عورت اور مرد تھے تو ان کو میں گریٹ کر کے ان کے ساتھ چلا، تو انہوں نے کہا میڈم بہت خوش تھیں۔ سب کو بتایا تھا کہ ہمارا آج ایک معزز مہمان آرہا ہے ۔ میں آگے چلا گیا جا کر ایک بڑے ہال میں، انہوں نے مجھے اس خاتون نے اس مرد نےبٹھا دیا۔ایک لمبی سی میز تھی ۔ کالی سیاہ رنگ کی اور اس کے اوپر میں اکیلا بیٹھا تھا ۔ تو انہوں نے کہا، ہم نے میڈم کو اناؤنس کردیا ہے، وہ آتی ہوں گی۔ میں نے کہا بہت خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا ، وہ معذرت کررہی ہیں کہ تھوڑا سا آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔ اب بیٹھے بیٹھے مجھے کوئی مشکل سے چار پانچ منٹ ہوئے ہوں گے اور میں تھوڑا سا بوربھی ہو رہا تھا۔ وہاں سیڑھیاں تھیں آٹھ دس، وہاں سے ٹپ ٹپ کرتا ہوا ایک لڑکا، جس نے نیلی نیکر پہنی ہوئی ، کالے سیاہ بوٹ اور کتنے سارے بٹنوں والی جیکٹ سی پہنی ہوئی تھی وہ نیچے اترا۔ لڑکا کوئی سات آٹھ سال کا تھا۔
ہمارے جو استاد تھے۔ پرنسپل تھے، ریکٹر تھے وہ تھے وکٹوریہ ڈسیکا۔ ان کی ایک بہت مشہور بائیسکل تھے۔ تو ڈسیکا صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ لیکن ہم ڈسیکا صاحب سے نہ تو اتنا ڈرتے کیونکہ ان کامزاج اچھا نہ تھا ،اور نہ ان سے اتنا زیادہ متاثر تھے جتنے ان ایکٹروں سے جن کا پینترا اور طرح کا تھا۔ تو ایک دفعہ انہوں نے ہم سے کلاس میں پوچھا۔"بھئی بتاؤ کہ سب سے زیادہ مشکل رول کون سا ہے جو ایکٹر کر سکتا ہے؟" مجھے بات یاد آگئی۔ ہم سب نے ہاتھ کھڑے کیے تقریبا لڑکے لڑکیوں کا مشترکہ جواب تھا کہ ہنچ بیک آف نوٹرے ڈم بہت مشکل ہے۔ تو استاد محترم نے فرمایا، دنیا میں سب سے آسان رول ہنچ بک آف ناسٹرڈم بہت مشکل رول ہے۔ کیونکہ ٹوٹی ہوئی ناک، گندی شکل ، بدنصیب آدمی، ساری ہمدردیاں اس کے ساتھ، وہ رول تو کوئی بھی آدمی کرسکتا ہے۔ وہ تو سب سے آسان ہے۔ ہنچ بیک آف نوٹرے ڈم، اگر کسی نے کیا ہے تو آپ اسے بڑا ایکٹر نہ مانیں۔ مشکل ترین رول یہ ہے کہ عام گھرانے کا ایک عام باپ ہے۔ ٹوپی اتار کے رکھتا ہے، چھتری پکڑ کر رکھتا ہے۔ دفتر سے آتاہے اور پھر اس کو اپنا رول کرنا ہے جو سب سے مشکل ہے۔ وہ کیا کرے اس کے پاس کوئی سہارا نہیں؟
یہ بات دوسری طرف چلی گئی ، تو ہم چلے گئے علی بابا چالیس چور والے ریسٹورنٹ میں۔ 31 دسمبر کی رات میں تمھاری وہاں لگواؤں گا، اور تم دیکھو گے کہ دن کس طرح طلوع ہوتا ہے اور سال کس طرح ختم ہوتا ہے۔ کیا کیا کچھ ہنگامہ ہوتا ہے۔ ہم بڑے خوش تھے ۔ ہم وہاں چلے گئے تو جا کے جب دیکھا تو چھماچھم بینڈ باجے بج رہے ہیں اور دنیا جہاں کے ایکٹر ایکٹرس آئے ہوئے ہیں۔ سارے تقریبا وہاں پر موجود تھے اور وہ بڑا اچھا زمانہ تھا۔ جب پوسٹ واسل میں اٹلی کی بن رہی تھی عمارتیں ، جب وہاں گئے تو وہاں سٹیج کے اوپر بلیک نیگرو تھے۔ اس زمانے میں بلیک ڈرمر کا بہت رواج تھا ۔ اب نہیں رہا ۔ بیٹ بہت پیاری تھی ۔ ہر ایک کا ناچنے کو دل کررہا تھا۔ اچانک ریاک اٹھا ، ہم سمجھے شائد کوئی اپنی چیز ڈرنک، کوئی سگریٹ لینے گیا ہے۔ جاکراُن سے ملا، میوزک والوں سے۔ پھر لوٹ کر واپس آگیا تو اچانک ایک اعلان ہوا۔ سینوری سینوری بونیرا چے اون کانتن تے پاکستان وترا دی نصرالی تو میں یہی سمجھا کہ ہمارے درمیان کوئی پاکستانی موجود ہے جو بڑا اچھا گاتا بجاتا ہے۔ میں نےکہا ، شاید ہوگا۔ میں تھوڑا سا کانپا بھی۔ اعلی اے ای پروفسورے اعلیٰ اونستی زاوی روما سوا ونامے کاغذ اٹھایا اشفاق احمد۔ جب انہوں نے یہ کہا تو میری جان عذاب بن گئی۔ مجھے گانے کا پتہ ہی نہیں ہوتا کیا ہے۔ شائد اب یاد ہو۔ اب یہ وہاں نہیں ہو سکتا کہ میرا گلا خراب ہے۔ یوں ہے وہ ہے میں نہیں آسکتا۔ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ برا لگتا ہے ۔ یا اللہ مجھے کچھ ایسی بات یاد دلا کہ میں کیا گاتا؟ ہمیں لب پہ آتی ہے دعا بن کے وہ اس ڈرمر پر نہیں بجا سکتے تھے۔ کچھ میوزک نہیں بج سکتا۔ پھر ڈانس، تو الحمدللہ میں گاؤں کا رہنے والا تھا اور ہمارے سکھ علاقے میں بولیاں وولیاں بہت چلتی تھیں۔ میں اپنی کرسی سے اسٹیج پر جاتے ہوئے سوچتا گیا۔ یا اللہ میں کیا کروں ۔ اچانک ایک بولی یاد آگئی، شاید یہی کچھ کام دے جائے۔ سٹیج پر پہنچ گیا تو سٹیج فیئر ختم ہو گیا۔ کچھ پہلے بھی ، ریڈیو کی دنیا سے تعلق تھا میرا ، وہاں پہنچ گیا۔ اپنے کان پر ہاتھ رکھا، سٹائل جو اپنا ہوتا ہے، میں نے کہا " بودی والا چڑھیا کار کار ہوں۔ وچارا گیڑا گناماں پیالا لیا روپ ہینڈاراں ہزار ہا بھیڈا چاردیاں، بے قدراں دیاں ناریاں بھیڈاں چار دیاں" جب یہ شروع ہوا تو انہوں نے لہر اٹھالی۔ جناب ادھر سے جم چکھدارجم چکھدار شروع ہوگئے۔ مجھے خالی یہ بند یاد آرہا ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں آرہا، میں یہ آدھا گھنٹہ تک اب ونس مور شروع ہوگیا۔ میں وہاں کا ہیرو بن گیا۔ اچھے اچھے گانے والے آئے ہوئے تھے۔ نامور گانے والے پیچھے ہو گئے۔ انہوں نے کہا ، نہیں سینورے نہیں اشفاق احمد دے نی دے دِنال ترولوتا اعلٰی کنتار۔" میں نے کہا، جی بس میرا اتنا ہی گانا تھا۔
اب جب میں بیٹھ گیا تو میں نے کہا، تم سے بعد میں بدلہ لوں گا۔ اب چونکہ مجھے اپنی اتنی شیشک مل رہی ہے تو لوگ آگئے مجھ سے دستخط کروانے آٹوگراف لینے کے لیے، میں اِس کو دے رہا اُس کو دے رہا ہوں۔ اشفاق احمد۔ میں جس میز پر بیٹھا ہوں، وہاں پر ایک معزز چودھری بنا ہوا تھا ۔ دور ایک میز تھی۔ اس پر ایک نہایت گریس فل خاتون تھیں۔ اکیلی چپ چاپ بیٹھی ہوئی تو انہوں نے پلٹ کر ایسے میری طرف دیکھا تو میری بالکل سٹی گم ہو گئی۔ یعنی اس کا کچھ ایسا چارم تھا اس کی پرسنیلٹی اتنی بڑی تھی۔ میں اس کے پاس بہ ادب چلاگیا۔
اس نے کہا ۔ "سی کم دا" میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا گِو می سائن مجھے بھی دیں آٹو گراف۔ میں نے اس پر لکھا، بخد مت ملکہ عالیہ اِنگرڈ برگ مان اور نیچے اپنا نام لکھا۔ اب اس کے بعد وہ انگریزی میں پوچھتی ہے
What you have written?
تو میں نے کہا
I have written your name.
اور یہ مجھے بڑی آرزو تھی۔ میں خوش اس لیے اٹھ کر آگیا تھا کہ اتنے قریب سے اتنی بڑی آرٹسٹ کو دیکھنے کی حسرت تھی۔ تو آپ کی خدمت میں آگیا وہ کہنے لگی
Thank you very much
میں نے کہا،"سنیورو بیر تو رسیلنی سے بھی ملنے کو میرا بڑا جی چاہتا ہے۔ وہ اس کے خاوند تھے جورسیلنی۔ تو اس نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا، مجھے رنگ کریں۔ میں آپ کو وقت دوں گی، فلاں دن اور پھر آپ آئیں۔ تو میں نے وہاں سے آکر سب کو بتایا۔
ایک دن میں نے ٹیلی فون کیا۔ اس نے کہا، آپ آئیں اور دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔ رسیلنی باوجود اس کے کہ وہ سیٹ پر ہوں گے، لیکن انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں آجاؤں گا اور کھانا اکھٹے کھائیں گے۔
This will be sort of family union
ہم تو کو ایک گھر کا بندہ ہی سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا ،جی
I am honored
عزت افزائی کی بات ہے۔ تو لو جی میں وہاں پہنچا، کار چلاتا۔ پولین اسے کہتے تھے۔ تو پولین کے معنی ہیں ، چوھیا۔ چوہیا کار۔ صابن دانی تو آپ لوگوں نے یہاں نام رکھ دیا ہے۔ اُسی کو تو پولین چوہیا کار کہتے ہیں۔ اب میں تو پولینو میں وہاں پہنچا۔ ولا کوئی روم سے 21۔22 کلومیٹر کے فاصلے پر۔ جب میں وہاں پہنچا تو میرا خیال تھا کہ امیر لوگ ہیں تو اچھا خاصا بڑا گھر ہو گا۔ لیکن جی وہ تو اتنا بڑا گھر تھا اور اتنے ایکڑ پر پھیلا ہوا کہ میری سٹی گم گئی اس کو دیکھ کے۔ باہر کھڑے دربان نے پوچھا، آپ کو کس سے ملنا ہے۔ سینوریوپاکستان میں نے۔کہنے لگا، سی کماں دا، اس نے وہاں سے ٹیلی فون کیا۔ اندر سے اسے کہا گیا، ہاں بڑا گیٹ کھول دو، آنے دو اندر۔ اب جب میں نے وہاں بڑا گیٹ کھول کے چھوٹی کار اندرداخل کی تو یہ زندگی شرمندگیوں میں سے ایک تھی۔ انہوں نے کہا گڑ ۔ڑ ۔ڑ۔ بڑا دروازہ کھولا کہ کوئی ملنے والا ہے تو چوہیا اس کے اندر جا رہی ہے۔ مجھے بہت افسوس ہوا ، یا اللہ یہ ایسی کار۔ کاش اس وقت کے لیے اور بڑی مل جاتی، کم از کم لیموزین تو ہوتی۔ میں نے جاکے اسے روکا۔ اس چوکیدار نے کہا، ابھی آپ کو تھوڑا سا پیدل چلنا پڑے گا۔ آگے آپ کو ایک اور برک انداز مِلے گا، باوردی۔ وہ آپ کو لے جائے گا، تو میں نے کہا، بہت اچھا۔ میں پیدل چلتا رہا پٹڑی کے اوپر۔ دونوں طرف بہت خوبصورت لان تھے۔، آگے گئے تو ایک اور باوردی آدمی ملا، اس نے بڑے ادب سے سلام کیا۔ اس نے کہا، آئیے میرے ساتھ ،وہ لے کے چلا۔ ایک برآمدہ بڑا خوبصورت اور اس کے اوپر بیلیں لٹکی ہوئیں۔ اس نے وہاں جاکر کہا، میری حد یہاں ختم ہوتی ہے۔ آپ اب ایک اور صاحب کے ساتھ چلے جائیں۔ ایک اور صاحب جو کہ عورت اور مرد تھے تو ان کو میں گریٹ کر کے ان کے ساتھ چلا، تو انہوں نے کہا میڈم بہت خوش تھیں۔ سب کو بتایا تھا کہ ہمارا آج ایک معزز مہمان آرہا ہے ۔ میں آگے چلا گیا جا کر ایک بڑے ہال میں، انہوں نے مجھے اس خاتون نے اس مرد نےبٹھا دیا۔ایک لمبی سی میز تھی ۔ کالی سیاہ رنگ کی اور اس کے اوپر میں اکیلا بیٹھا تھا ۔ تو انہوں نے کہا، ہم نے میڈم کو اناؤنس کردیا ہے، وہ آتی ہوں گی۔ میں نے کہا بہت خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا ، وہ معذرت کررہی ہیں کہ تھوڑا سا آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔ اب بیٹھے بیٹھے مجھے کوئی مشکل سے چار پانچ منٹ ہوئے ہوں گے اور میں تھوڑا سا بوربھی ہو رہا تھا۔ وہاں سیڑھیاں تھیں آٹھ دس، وہاں سے ٹپ ٹپ کرتا ہوا ایک لڑکا، جس نے نیلی نیکر پہنی ہوئی ، کالے سیاہ بوٹ اور کتنے سارے بٹنوں والی جیکٹ سی پہنی ہوئی تھی وہ نیچے اترا۔ لڑکا کوئی سات آٹھ سال کا تھا۔
No comments:
Post a Comment