Tuesday, September 25, 2012

بچوں کی نفسیات ۔ ۔۔ اشفاق احمد

بچوں کی نفسیات
آپ سب کی خدمت میں میرا سلام پہنچے۔

بچے کی نفسیات کے بارے میں بہت سی دلیلیں ایک دوسرے کے متضاد بھی ملتی ہیں کہ یہ بچہ کام کرتا ہے کہ یا نہیں کرتا، تو میرا اس سے کوئی تعارف نہیں تھا۔ اور میں سائیکالوجی کے بارے میں اتنا کچھ نہیں جانتا تھا جتنا کہ میرے ہم سفر جانتے تھے۔ میرا یہ واقعہ 1952ء کا ہے اور یہ مجھے شہزاد کی فرمائش پر پھر یاد آرہا ہے۔ بہت دیر کی بات ہے۔ میں 1952ء میں ملک روم میں تھا۔ روم یونیورسٹی میں اردو پڑھاتا تھا اور ساتھ ساتھ فرانسیسی اور اطالوی پڑھتا تھا۔ وہاںپرہمارا ایک دوست تھا مسودی ریاک۔ وہ بہت اچھا مصور تھا۔ میرا بہت اچھے سے مراد یہ کہ اس کی تصویریں گاہے بگاہے بک جاتی تھیں اور وہ ہمارا دوست تھا۔ دوست تھا تو اس کے ساتھ ادھر اللے تللے کرنے میں روم گھوم پھر لیتا تھا۔ وہ اچھا شریف آدمی تھا۔ ہمیں بہت آسانی   ہوتی تھی، کیونکہ اس کے پاس کچھ پیسے ہوتے تھے۔ ہم تین دوست تھے۔ ریاک ، میں اور ایک ہری چند، جو ہندوستان کا تھا۔ ہم اس تاڑ میں رہتے تھے کہ کوئی اچھا سا موقع ہمیں ایسا ملے کہ جہاں پر ہم پیسے خرچے بغیر گھوم سکیں اور اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکیں کیونکہ پتا نہیں کتنی دیر یورپ میں رہنا ہے۔ تو ان دنوں 31 دسمبر 1952ء کو ریاک کی ایک تصویر بک گئی تو اس نے کہا، میں تمھاری دعوت کروں گا۔ وییاوینی تو کے اوپر ، جہاں پر ایمبیسٹر ہیں۔ بہت قیمتی سڑک ہے جیسے ہمارے ہاں شارع قائد اعظم ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں جس کا نام علی بابا چالیس چور تھا۔ وہ ایک بہت بڑا ریسٹورنٹ تھا۔ ایک بیسمنٹ میں۔ ریستوران میں بڑے خوبصورت چالیس مرتبان تھے، ستونوں کی جگہ بنے ہوئے۔ اور اس کے اوپر بڑی چھت اٹھائی ہوئی تھی اور اس کے اندر آرکسٹرا بڑا خوبصورت بجتا تھا۔ ہماری خوش قسمتی کہ وہاں عام طور پر ایکٹر لوگ زیادہ جاتے تھے۔ عام آدمی کی وہاں اتنی پہنچ نہیں تھی کہ وہاں پہنچ سکتا یہ جو ہمارا انتھونی کوئن تھا، اس کو وہاں آنے کا بہت شوق تھا۔ انتھونی کوئن کی ایک بڑی عجیب و غریب عادت تھی کہ عورتوں جیسا مزاج تھا اس کا۔ ہر وقت اپنے ساتھ ایک شیشہ رکھتا تھا ، دو منٹ بعد نکال کے تھوڑی دیر بعد لپ اسٹک لگاتا تھا۔ اتنا نازک مزاج اور یوں کرکے بال۔ انتھونی کوئن سے ہم بہت متاثر تھے۔ وہاں کے لوگ بھی متاثر تھے۔ اور پھر اس سے وہاں ملنا ہوا۔ انہی دنوں ہمارے مشرقی پاکستان کے ربیع الدین وہاں پر فلم ڈائریکشن کی کچھ تعلیم لینے آگئے۔ ہماری ایویننگ کلاسیں ہوتی تھیں، اس لیے میں نے انہوں نے کہا، چھ مہینے کا کورس ہے اس میں آپ کو پتہ چلے گا کہ ڈرامہ کیسے لکھا جاتا ہے۔ لائٹنگ کیسے کی جاتی ہے۔ تو چینی چتا ہم جانے لگے۔

ہمارے جو استاد تھے۔ پرنسپل تھے، ریکٹر تھے وہ تھے وکٹوریہ ڈسیکا۔ ان کی ایک بہت مشہور بائیسکل تھے۔ تو ڈسیکا صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ لیکن ہم ڈسیکا صاحب سے نہ تو اتنا ڈرتے  کیونکہ ان کامزاج اچھا نہ تھا ،اور نہ ان سے اتنا زیادہ متاثر تھے جتنے ان ایکٹروں سے جن کا پینترا اور طرح کا تھا۔ تو ایک دفعہ انہوں نے ہم سے کلاس میں پوچھا۔"بھئی بتاؤ کہ سب سے زیادہ مشکل رول کون سا ہے جو ایکٹر کر سکتا ہے؟" مجھے بات یاد آگئی۔ ہم سب نے ہاتھ کھڑے کیے تقریبا لڑکے لڑکیوں کا مشترکہ جواب تھا کہ ہنچ بیک آف نوٹرے ڈم بہت مشکل ہے۔  تو استاد محترم نے فرمایا، دنیا میں سب سے آسان رول ہنچ بک آف ناسٹرڈم بہت مشکل رول ہے۔ کیونکہ ٹوٹی ہوئی ناک، گندی شکل ، بدنصیب آدمی، ساری ہمدردیاں اس کے ساتھ، وہ رول تو کوئی بھی آدمی کرسکتا ہے۔ وہ تو سب سے آسان ہے۔ ہنچ بیک آف نوٹرے ڈم، اگر کسی نے کیا ہے تو آپ اسے بڑا ایکٹر نہ مانیں۔ مشکل ترین رول یہ ہے کہ عام گھرانے کا ایک عام باپ ہے۔ ٹوپی اتار کے رکھتا ہے، چھتری پکڑ کر رکھتا ہے۔ دفتر سے آتاہے اور پھر اس کو اپنا رول کرنا ہے جو سب سے مشکل ہے۔ وہ کیا کرے اس کے پاس کوئی سہارا نہیں؟

یہ بات دوسری طرف چلی گئی ، تو ہم چلے گئے علی بابا چالیس چور والے ریسٹورنٹ میں۔ 31 دسمبر کی رات میں تمھاری وہاں لگواؤں گا، اور تم دیکھو گے کہ دن کس طرح طلوع ہوتا ہے اور سال کس طرح ختم ہوتا ہے۔ کیا کیا کچھ ہنگامہ ہوتا ہے۔ ہم بڑے خوش تھے ۔ ہم وہاں چلے گئے تو جا کے جب دیکھا تو چھماچھم بینڈ باجے بج رہے ہیں اور دنیا جہاں کے ایکٹر ایکٹرس آئے ہوئے ہیں۔ سارے تقریبا وہاں پر موجود تھے اور وہ بڑا اچھا زمانہ تھا۔ جب پوسٹ واسل میں اٹلی کی بن رہی تھی عمارتیں ، جب وہاں گئے تو وہاں سٹیج کے اوپر بلیک نیگرو تھے۔ اس زمانے میں بلیک ڈرمر کا بہت رواج تھا ۔ اب نہیں رہا ۔ بیٹ بہت پیاری تھی ۔ ہر ایک کا ناچنے کو دل کررہا تھا۔ اچانک ریاک اٹھا ، ہم سمجھے شائد کوئی اپنی چیز ڈرنک، کوئی سگریٹ لینے گیا ہے۔ جاکراُن سے ملا، میوزک والوں سے۔ پھر لوٹ کر واپس آگیا تو اچانک ایک اعلان ہوا۔ سینوری سینوری بونیرا چے اون کانتن تے پاکستان وترا دی نصرالی تو میں یہی سمجھا کہ ہمارے درمیان کوئی پاکستانی موجود ہے جو بڑا اچھا گاتا بجاتا ہے۔ میں نےکہا ، شاید ہوگا۔ میں تھوڑا سا کانپا بھی۔ اعلی اے ای پروفسورے اعلیٰ اونستی زاوی روما سوا ونامے کاغذ اٹھایا اشفاق احمد۔ جب انہوں نے یہ کہا تو میری جان عذاب بن گئی۔ مجھے گانے کا پتہ ہی نہیں ہوتا کیا ہے۔ شائد اب یاد ہو۔ اب یہ وہاں نہیں ہو سکتا کہ میرا گلا خراب ہے۔ یوں ہے وہ ہے میں نہیں آسکتا۔ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ برا لگتا ہے ۔ یا اللہ مجھے کچھ ایسی بات یاد دلا  کہ میں کیا گاتا؟ ہمیں لب پہ آتی ہے دعا بن کے وہ اس ڈرمر پر نہیں بجا سکتے تھے۔ کچھ میوزک نہیں بج سکتا۔ پھر ڈانس، تو الحمدللہ میں گاؤں کا رہنے والا تھا اور ہمارے سکھ علاقے میں بولیاں وولیاں بہت چلتی تھیں۔ میں اپنی کرسی سے اسٹیج پر جاتے ہوئے سوچتا گیا۔ یا اللہ میں کیا کروں ۔ اچانک ایک بولی یاد آگئی، شاید یہی کچھ کام دے جائے۔ سٹیج پر پہنچ گیا تو سٹیج فیئر ختم ہو گیا۔ کچھ پہلے بھی ، ریڈیو کی دنیا سے تعلق تھا میرا ، وہاں پہنچ گیا۔ اپنے کان پر ہاتھ رکھا، سٹائل جو اپنا ہوتا ہے، میں نے کہا " بودی والا چڑھیا کار کار ہوں۔ وچارا گیڑا گناماں پیالا لیا روپ ہینڈاراں ہزار ہا بھیڈا چاردیاں، بے قدراں دیاں ناریاں بھیڈاں چار دیاں" جب یہ شروع ہوا تو انہوں نے لہر اٹھالی۔ جناب ادھر سے جم چکھدارجم چکھدار شروع ہوگئے۔ مجھے خالی یہ بند یاد آرہا ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں آرہا، میں یہ آدھا گھنٹہ تک اب ونس مور شروع ہوگیا۔ میں وہاں کا ہیرو بن گیا۔ اچھے اچھے گانے والے آئے ہوئے تھے۔ نامور گانے والے پیچھے ہو گئے۔ انہوں نے کہا ، نہیں سینورے نہیں اشفاق احمد دے نی دے دِنال ترولوتا اعلٰی کنتار۔" میں نے کہا، جی بس میرا اتنا ہی گانا تھا۔

اب جب میں بیٹھ گیا تو میں نے کہا، تم سے بعد میں بدلہ لوں گا۔ اب چونکہ مجھے اپنی اتنی شیشک مل رہی ہے تو لوگ آگئے مجھ سے دستخط کروانے آٹوگراف لینے کے لیے، میں اِس کو دے رہا اُس کو دے رہا ہوں۔ اشفاق احمد۔  میں جس میز پر بیٹھا ہوں، وہاں پر ایک معزز چودھری بنا ہوا تھا ۔ دور ایک میز تھی۔ اس پر ایک نہایت گریس فل خاتون تھیں۔ اکیلی چپ چاپ بیٹھی ہوئی تو انہوں نے پلٹ کر ایسے میری طرف دیکھا تو میری بالکل سٹی گم ہو گئی۔ یعنی اس کا کچھ ایسا چارم تھا اس کی پرسنیلٹی اتنی بڑی تھی۔ میں اس کے پاس بہ ادب چلاگیا۔

اس نے کہا ۔ "سی کم دا" میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا گِو می سائن مجھے بھی دیں آٹو گراف۔ میں نے اس پر لکھا، بخد مت ملکہ عالیہ اِنگرڈ برگ مان اور نیچے اپنا نام لکھا۔ اب اس کے بعد وہ انگریزی میں پوچھتی ہے 
What you have written?
تو میں نے کہا
I have written your name.
اور یہ مجھے بڑی آرزو تھی۔ میں خوش اس لیے اٹھ کر آگیا تھا کہ اتنے قریب سے اتنی بڑی آرٹسٹ کو دیکھنے کی حسرت تھی۔ تو آپ کی خدمت میں آگیا وہ کہنے لگی
Thank you very much
 میں نے کہا،"سنیورو بیر تو رسیلنی سے بھی ملنے کو میرا بڑا جی چاہتا ہے۔ وہ اس کے خاوند تھے جورسیلنی۔ تو اس نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا، مجھے رنگ کریں۔ میں آپ کو وقت دوں گی، فلاں دن اور پھر آپ آئیں۔ تو میں نے وہاں سے آکر سب کو بتایا۔

ایک دن میں نے ٹیلی فون کیا۔ اس نے کہا، آپ آئیں اور دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔ رسیلنی باوجود اس کے کہ وہ سیٹ پر ہوں گے، لیکن انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں آجاؤں گا اور کھانا اکھٹے کھائیں گے۔
This will be sort of family union
ہم تو کو ایک گھر کا بندہ ہی سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا ،جی
I am honored
عزت افزائی کی بات ہے۔ تو لو جی میں وہاں پہنچا، کار چلاتا۔ پولین اسے کہتے تھے۔ تو پولین کے معنی ہیں ، چوھیا۔ چوہیا کار۔ صابن دانی تو آپ لوگوں نے یہاں نام رکھ دیا ہے۔ اُسی کو تو پولین چوہیا کار کہتے ہیں۔ اب میں تو پولینو میں وہاں پہنچا۔ ولا کوئی روم سے 21۔22 کلومیٹر کے فاصلے پر۔ جب میں وہاں پہنچا تو میرا خیال تھا کہ امیر لوگ ہیں تو اچھا خاصا بڑا گھر ہو گا۔ لیکن جی وہ تو اتنا بڑا گھر تھا اور اتنے ایکڑ پر پھیلا ہوا  کہ میری سٹی گم گئی اس کو دیکھ کے۔ باہر کھڑے دربان نے پوچھا، آپ کو کس سے ملنا ہے۔ سینوریوپاکستان میں نے۔کہنے لگا، سی کماں دا، اس نے وہاں سے ٹیلی فون کیا۔ اندر سے اسے کہا گیا، ہاں بڑا گیٹ کھول دو، آنے دو اندر۔ اب جب میں نے وہاں بڑا گیٹ کھول کے چھوٹی کار اندرداخل کی تو یہ زندگی شرمندگیوں میں سے ایک تھی۔ انہوں نے کہا گڑ ۔ڑ ۔ڑ۔ بڑا دروازہ  کھولا کہ کوئی ملنے والا ہے تو چوہیا اس کے اندر جا رہی ہے۔ مجھے بہت افسوس ہوا ، یا اللہ یہ ایسی کار۔ کاش اس وقت کے لیے اور بڑی مل جاتی، کم از کم لیموزین تو ہوتی۔ میں نے جاکے اسے روکا۔ اس چوکیدار نے کہا، ابھی آپ کو تھوڑا سا پیدل چلنا پڑے گا۔ آگے آپ کو ایک اور برک انداز مِلے گا، باوردی۔ وہ آپ کو لے جائے گا، تو میں نے کہا، بہت اچھا۔ میں پیدل چلتا رہا پٹڑی کے اوپر۔ دونوں طرف بہت خوبصورت لان تھے۔، آگے گئے تو ایک اور باوردی آدمی ملا، اس نے بڑے ادب سے سلام کیا۔ اس نے کہا، آئیے میرے ساتھ ،وہ لے کے چلا۔ ایک برآمدہ بڑا خوبصورت اور اس کے اوپر بیلیں لٹکی ہوئیں۔ اس نے وہاں جاکر کہا، میری حد یہاں ختم ہوتی ہے۔ آپ اب ایک اور صاحب کے ساتھ چلے جائیں۔ ایک اور صاحب جو کہ عورت اور مرد تھے تو ان کو میں گریٹ کر کے ان کے ساتھ چلا، تو انہوں نے کہا میڈم بہت خوش تھیں۔ سب کو بتایا تھا کہ ہمارا آج ایک معزز مہمان آرہا ہے ۔ میں آگے چلا گیا جا کر ایک بڑے  ہال میں، انہوں نے مجھے اس خاتون نے اس مرد نےبٹھا دیا۔ایک لمبی سی میز تھی ۔ کالی سیاہ رنگ کی اور اس کے اوپر میں اکیلا بیٹھا تھا ۔ تو انہوں نے کہا، ہم نے میڈم کو اناؤنس کردیا ہے، وہ آتی ہوں گی۔ میں نے کہا بہت خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا ، وہ معذرت کررہی ہیں کہ تھوڑا سا آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔ اب بیٹھے بیٹھے مجھے کوئی مشکل سے چار پانچ منٹ ہوئے ہوں گے اور میں تھوڑا سا بوربھی  ہو رہا تھا۔ وہاں سیڑھیاں تھیں آٹھ دس، وہاں سے ٹپ ٹپ کرتا ہوا ایک لڑکا، جس نے نیلی نیکر پہنی ہوئی ، کالے سیاہ بوٹ اور کتنے سارے بٹنوں والی جیکٹ سی پہنی ہوئی تھی وہ نیچے اترا۔ لڑکا کوئی سات آٹھ سال کا تھا۔

Sunday, September 16, 2012

بہروپ ۔۔۔۔ زاویہ

                      بہروپ
  یہ ایک بھری برسات کا ذکر ہے۔ آسمان سے  ڈھیروں پانی برس رہا تھا اور میری کیفیت اُس طرح تھی کہ جیسے میرے دل کے اندر بارش ہو رہی ہے، کچھ ایسا ہی مینہ بستی کےاوپربھی برس رہا تھا۔ میں تھوڑا سا زخم خوردہ تھا۔ اس زخم کا مداوا میرے پاس نہ تھا، ما سوائے اس کے کہ میں ڈیرے پر چلوں اور اپنے بابا کی خدمت میں اظہار کروں۔ بات یہ تھی کہ میرے ایک بہت ہی پیارے دوست، جو میرے ساتھی بھی تھے، وہ افسانہ نگار تھے اور کالم بھی لکھتے تھے۔ انہوں نے کالموں میں میرے بڑی کھچائی کی تھی۔ اور جب کالم نویس رگیدتا ہے جو جس کی کھچائی ہوتی ہے اس کے پاس کوئی اخبار نہیں ہوتا جس میں وہ جواب الجواب لکھ سکے۔ وہ بے چارہ غم زدہ ہوکر گھر بیٹھ جاتاہے۔ میرے ساتھ بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی کیا تھا اور تابڑ توڑ تین چار سخت حملے کیے تھے۔

میں اپنے دکھ کا اظہار کرنے کے لیے ڈیرے پر چلاگیا اور بابا جی سے کہا،"میں بڑا دکھی ہوں اور اس بات کی مجھے بڑی تکلیف  ہے۔ اس شخص نے جو بظاہر دوست ہیں، ہم سے محبت کے ساتھ ملتے ہیں اور ٹی ہاؤس میں ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور لوگوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ اس طرح کی کارستانی میرے لیے کر سکتا ہے۔ پھر یہ کیا ہے؟

انہوں نے کہا:"اوہ پت! آپ اس کو سمجھے نہیں، یہ بڑی سمجھ داری کی بات ہے۔ دو صوفی تھے۔ ایک بڑا صوفی ٹرینڈ اور ایک چھوٹا صوفی انڈر ٹریننگ۔ چھوٹے صوفی کو ساتھ لے کر بڑا صوفی گلیوں،بازاروں میں لے کر گھومتا رہا۔ چلتے چلاتے اس کو لے ایک جنگل میں لے کر چلا گیا۔ جیسے کہ میں نے پہلے عرض کی، بڑی تابڑ توڑ بارش ہوئی تھی، جنگل بھیگا ہوا تھا اور اس جنگل میں جگہ جگہ لکڑیوں کے ڈھیرتھے۔ پتوں کے، شاخوں کے انبار تھے۔ اس بڑے صوفی نے دیکھا کہ شاخوں اور پتوں کے ڈھیر میں ایک سانپ کچھ مرجھایا ہوا، کچھ سنگھڑایا ہوا پڑا ہے۔ وہ پہلے آگ کی حدت سے زخم خوردہ تھا اور پھر اس پر جو بارش پڑی تو وہ زندہ سانپوں میں سے ہو گیا۔ صوفی کو بڑا ترس آیا۔ اس نے آگے بڑھ کر سانپ کو اٹھا لیا۔ چھوٹے صوفی نے کہا "حضور کیا کرتے ہیں"؟ سانپ ہے، موذی ہے اس کو اٹھایا نہیں کرتے۔انہوں نے کہا" نہیں بے چارہ ہے مجبور ہے، زخمی ہے زخم خوردہ ہے اللہ کی مخلوق ہے۔ اس کی کچھ غوروپرداخت کرنی چاہیئے۔ تو وہ سانپ کو ہاتھ میں لے کر چلے ۔ پھر دونوں باتیں کرتے کرتے  کافی منزلیں طے کرتے گئے۔ جب ٹھنڈی ہوا لگی، جھولتے ہوئے سانپ کو تو ہوش آنے لگا اور جب ہوش آیا تو طاقتور ہو گیا۔ طاقتور ہو گیا تو اس نے صوفی صاحب کے ہاتھ پر ڈس لیا۔ جب ڈسا تو انہوں نے سانپ کو بڑی محبت اورپیار کے ساتھ ایک درخت کی جڑ کے پاس رکھ دیا کیونکہ اب وہ ایک محفوظ جگہ پر  پہنچ گیا ہے۔ اب یہاں پر آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ریوائیو کرنے لگا۔ جہاں بھی اس کا دل ہوگا چلا جائے گا۔ چھوٹے صوفی نے کہا۔"دیکھیں سر! میں نے کہا تھا ناں کہ یہ ایک موذی جانور ہے،آپ کو ڈس لے گا۔ پھر کیوں ساتھ اٹھا کرلیے جارہے ہیں؟ آپ تو بہت دانش مند ہیں، مجھے سکھانے پر معمور ہیں" تو انہوں نے کہا: ڈسا نہیں ہے اس کے شکریہ ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ سانپ اسی طرح شکریہ ادا کیا کرتے ہیں۔" یہ جو تمھارے خلاف 
لکھتا ہے، اس کا شکریہ ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ تم ناراض نہ ہو۔ 
میرے دل پر جو بڑا بھاری بوجھ تھا، دور ہوگیااور میں بالکل ہلکا پھول ہو گیا۔ تو خواتین و حضرات! یہ ڈیرے،خانقاہیں یا جن کو تکیہ کہہ لیں، یہ اسی مقصد کے لیے ہوتے ہیں کہ دل کا بوجھ جو آدمی سے خود اٹھائے نہیں اٹھتا، وہ ان کے پاس لے جائے۔ اور "بابے"کے پاس جاکر آسانی سے سمجھ میں آنے کے لیے عرض کرے۔ فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں کوئی سائیکی ایٹ ریسٹ بیٹھا ہو، لیکن وہ فیس نہ لے، یا سائیکالوجسٹ ہو جس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پر لٹا کر معائنہ کرتے ہیں، بلکہ بچھانے کے لیے صف ہو۔ اس پر ایسا سامان ہو کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں۔ تو ان ڈیروں کو ،ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں، الجزائر میں، تیونس میں "زاویے" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو "زاویہ"کہتے ہیں۔ کچھ"رباط" بھی کہتے ہیں وہاں پر، لیکن زاویہ زیادہ مستعمل ہے۔ حیران کن بات ہے' باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسم ظرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔ تیونس،الجزائر میں رباط تھے۔یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ رہنے کے لیے جگہ دیتے تھے۔ کھانے کے لیے روٹی، پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے۔دکھی لوگ آتے تھے۔ اپنا دکھ بیان کرتے تھے اور ان سے شفاء حاصل کرکے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! جو سائیکالوجسٹ کہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔

اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے۔ نقل بمطابق اصل ہے لیکن سپرٹ (روح) اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعت کا بوجھ، جو پروگراموں میں اور کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا، وہ کسی طور پر یہاں دور ہوسکے۔

آپ جب بھی کسی ڈیرے پر، کسی بزرگ سے ملنے کے لیے جائیں گے تو آپ کے لاشعور میں ٹیسٹ کا ایک میٹر ضرور ہو گا۔ میں دیکھوں، یہ کیسا آدمی ہے؟ آپ اکثر یہ کہہ کر چلے آتے ہیں کہ یار وہاں گئے تھے،وہ تو کچھ نہیں ہے۔ اپنے معیار کے ساتھ آدمی چیک کرتا ہے، لیکن جب آپ پوری طلب کے ساتھ، امتحان پاس کرنے کا انداز اختیار کیے ہوئے جائیں تو پھرآپ کو ان خاکستروں میں عجیب قسم کے لعل مل جاتے ہیں۔ مشکل تو ہوگی کہ وہاں سندھ چلے جائیں۔تھرپارکر کے ڈیزرٹ میں چلے جائیں یا روہی میں چلے جائیں۔ کچھ نہ کچھ آپ کو دانش کی بات مل جائے گی۔ دانش کی بات جو ہے، یہ ایسے ہی لوگوں سے ملتی ہے، کتابوں سے نہیں ملتی۔

تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ زاویہ، باوجود اس کے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے لیکن اس کی خوبی اس کی سپرٹ ویسی ہی رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سپرٹ سے یاد آیا کہ اورنگزیب عالمگیر کے دربارمیں ایک بہروپیا آیا اور اس نے کہا:" باوجود اس کے کہ آپ رنگ و رامش، گانے بجانے کو برا سمجھتے ہیں، شہنشاہ معظم! لیکن میں فنکار ہوں اور ایک فنکار کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور میں بہروپیا ہوں۔ میرا نام کندن بہروپیا ہے اور میں ایسا بہروپ بدل سکتا ہوں کہ شہنشاہ معظم، جن کو اپنے تبحرِعلمی پر بڑاناز ہے، دھوکا دے سکتا ہوں، اورمیں غچہ دے کر بڑی کامیابی کے ساتھ نکل جاتا ہوں۔

اورنگزیب عالمگیر نے کہا:"یہ بات توضیعِ اوقات ہے۔ میں تو شکارکو بھی کارِبیکار سمجھتا ہوں۔ یہ تم جو چیز میرے پاس لائے ہو، اس کو میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔
اس نے کہا:"نہیں صاحب ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ آپ اتنے بڑے شہنشاہ ہیں اور دانش میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ میں بھیس بدلوں گا، آپ پہچان کر دکھائیے۔

 تو انہوں نے کہا" منظور ہے"۔

اس نے کہا :"حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں۔ اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو میں آپ کا دینے دار ہوں۔ لیکن اگر آپ مجھے نہ پہچان سکے اور میں نے ایسا بھیس بدلا تو میں آپ سے پانچ سو روپیہ لوں گا۔" ظاہر ہےاس وقت پانچ سو بہت ہوں گے۔ شہنشاہ نے کہا:" ٹھیک ہے۔پانچ سو میرے لیے کچھ نہیں ہے منظور ہے،جاؤ۔" تو وہ شرط طے کرکے چلاگیا اور پھر سوچنے لگا۔ گھر جا کر بھی پریشان ہوا کہ میں شیخی میں ایسی شرط بد کر آگیا ہوں۔ میں کون سا ایسا روپ بدلوں کہ بادشاہ کو پتہ نہ چلے۔ پھرتا پھراتا تحقیق و تفتیش کرتا رہا۔ لوگوں سے پتا چلا اورنگزیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا میں مرہٹوں پر اوربہمنی سلطنتوں اکثر حملے کیا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا، یہ سال چھوڑکر اگلے سال پھر ان پر حملہ کرے گا۔ یہ خبر بہروپیئے کو جو وقائع نگار تھے، انہوں نے بتائی۔ اس نے کہا ، ٹھیک ہے۔ چنانچہ وہ یہاں سے پاپیادہ سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گیا جہاں بہمنی سلطنت تھی۔ وہاں جاکر اس نے ایک بزرگ کاروپ دھارا۔ ڈاڑھی بڑھا لی۔ سبز کپڑے پہن لیے۔ بڑے بڑے منکے گلے میں ڈال لیے، اور اللہ کی یاد میں ایسا مستغرق ہوا کہ بڑی دیر تک بہت دور لوگوں کو اپنے سحر میں مبتلا کرتا رہا۔ اردگر کے لوگ جو تھے، بابا پیر کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ لوگ آنے لگے اور طرح طرح کے چڑھاوے چڑھانے لگے۔ جیسا کہ ہمارے یہاں کارواج ہے ۔ دور دور تک اس کا نام آنے لگا۔ لیکن وہ بڑی استقامت کے ساتھ سال بھر اس ریاضت میں مصروف رہا جو بزرگ کیا کرتے ہیں۔

ایک سال کے بعد جب اپنا لاؤلشکر لے کر اورنگزیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا پہنچا اور پڑاؤ ڈالا تو تھوڑا خوفزدہ تھا۔ اورجب اس نے مرہٹوں کے پیشوا پر حملہ کیا تو وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بند تھے کہ اس کی فوجیں توڑ نہ سکیں۔ پریشانی کا عالم ہوگیا اور یقین ہوگیا کہ شاید اس کو ناکام لوٹنا پڑے اور اس کی حکومت پر ُبرا اثر پڑے۔ چنانچہ لوگوں نے کہا، یہاں ایک درویش ولی اللہ رہتے ہیں درخت کے نیچے۔ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے جاکر ڈسکس کریں۔ پھر دعا کریں اورپھر ٹوٹ پڑیں۔ شہنشاہ پریشان تھا، بے چارہ بھاگا بھاگا گیا اُن کے پاس سلا م کیا۔ اور کہا :"حضور میں آپ کی خدمت میں ذرا ۔۔۔۔۔" انہوں نے کہا:"ہم فقیر آدمی ہیں۔ہمیں ایسی چیزوں سے کیا لینا دینا۔"شہنشاہ نے کہا:"نہیں عالم اسلام پر بڑا مشکل وقت ہے (جیسے انسان بہانے کیا کرتا ہے) آپ ہماری مدد کریں۔ میں کل اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو فقیر نے کہا۔"نہیں کل مت کریں، پرسوں کریں اور پرسوں بعد نماز ظہر۔"اورنگزیب نے کہا جی بہت اچھا۔چنانچہ اس نے بعد نمازِظہر جو حملہ کیا اور ایسے زور کا کیا اور جذبے سے کیا اور پیچھے سے فقیر کی دعا تھی،اور ایسی دعا کہ وہ قلعہ ٹوٹ گیا اور فتح  ہو گئی۔ مفتوح جو تھے وہ پاؤں پڑ گئے۔ بادشاہ مرہٹوں کے پیشوا پر فتح مند کامران ہونے کے بعد سیدھا درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔ باوجود کہ وہ بہت سی ٹوپیاں سی کے اور قرآن لکھ کر گزارا کرتا تھا لیکن سبز رنگ کا بڑا سا عمامہ پہنتا تھا بڑے زمرد اور جواہر لگے ہوئے تھے۔ اس نے جاکر عمامہ اتارا اورکھڑا ہوگیا۔ دست بستہ کہ حضور یہ سب کچھ آپ ہی کی بدولت ہواہے۔

اس نے کہا:"نہیں جو کچھ کیا اللہ نے کیا ہے۔" انہوں نے کہا کہ آپ کی خدمت میں کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں حضور۔ درویش نے کہا:"ہم فقیر لوگ ہیں۔"اس نے کہا کہ دو پر گنے کی معافی دو بڑے قصبے۔ اتنے بڑے جتنے آپ کے اوکاڑہ اور پتوکی ہیں۔ وہ ان کو دیتا ہوں اور زمین اورآئندہ پانچ سات پشتوں کے لیے ہر طرح کی معافی ہے۔

اس نے کہا:"بابا یہ ہمارے کس کام کی ہیں چیزیں۔ ہم توفقیر لوگ ہیں۔ تیری بڑی مہربانی۔"اورنگزیب نے بڑا زور لگایا،لیکن وہ نہیں مانا اور بادشاہ مایوس ہو کے واپس آگیا۔ اس نے اپنے تخت کے اوپر متمکن ہو کر ایک نیا فرمان جاری کیا۔ جب شہنشاہ فرمان جاری کر رہا تھا،عین اسی وقت کندن بہروپیا اسی طرح منکے پہنے آیا۔ شہنشاہ نے کہا"۔
حضور آپ یہاں  کیوں تشریف لائے۔آپ مجھے حکم دیتے،میں آپ کی خدمت میںحاضر ہوتا۔"کندن نے کہا:نہیں شہنشاہ معظم! اب یہ ہمارافرض تھا، ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے'تو جناب عالی میں کندن بہروپیا ہوں۔ میرے پانچ سو روپے مجھے عنایت فرمائیں"۔
اس نے کہا:تم وہ ہو؟ اس نے کہا، ہاں وہی ہوں جو آپ سے ڈیڑھ برس پہلے آپ سے وعدہ کر کے گیا تھا۔

اورنگزیب نے کہا:"مجھے پانچ سو روپے دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں، جب میں نے آپ کو دو پرگنے اور دو قصبے کی معافی دی۔ جب میں نے آپ کے نام اتنی زمین کر دی۔ جب میں نے آپ کی سات پشتوں کو یہ رعایت دی کہ اس میری مملکت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں رہیں۔ آپ نے اس وقت کیوں انکار کردیا۔ یہ پانچ سو روپیہ تو کچھ بھی نہیں"۔

اس نے کہا" حضور با ت یہ ہے کہ جن کا روپ دھارا تھا، ان کی عزت مقصود تھی۔ وہ سچے لوگ ہیں ۔ ہم جھوٹے لوگ ہیں۔ میں یہ نہیں کر سکتا تھا۔ روپ سچوں کا دھاروں اور پھر بے ایمانی کروں"۔

تو خواتین و حضرات! میں یہ عرض کررہا تھا کہ ہمارا یہ زاویہ دو نمبر ہی سہی، بے شک بہروپ ہی سہی'تو آپ دعا کریں۔اس میں کچھ ایسی باتیں، کچھ ایسے مسئلے، کچھ ایسی پیچیدگیاں، کچھ ایسے بوجھ دور ہوتے رہیں جو کسی اور طرح سے نہیں ہو پاتے۔

زاویہ کے پہلے پروگرام میں حاضرین کے جناب اشفاق احمد سے کچھ سوالات اور ان کے جوابات۔

سوال: اس طرح کی نشست تو رورل ٹریڈیشن ہے ہماری۔ یہ بھی اسی کا ایک سلسلہ ہے۔ پرنٹڈ ورڈ نے اس کو تقریبا ختم کردیا ہے؟
جواب: ہاں یہ ایک لمبی کہانی ہے۔اورل ٹریڈیشن طاقتور ہے۔ پیغمبروں کا علم عام کرنے کے لیے اورل ٹریڈیشن ہی ہوتی ہے۔ پیغمبر بھی کھڑے ہو کر اپنی بات فرماتے تھے۔ اس لیے اللہ قرآن میں بار بار ہر پیغمبر کے بارے میں فرماتاہے:"اے لوگو!دیکھو۔"اوراعتراض کرنے والے یہ کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے۔ یہ تو بازاروں میں کھڑا ہوتا ہے۔ ہم لوگوں سے باتیں کرتا ہے۔ فرعون نے بھی یہ کہاتھا میں موسٰی کو کیسے مان لوں، اس کے بازوؤں میں تو کنگن بھی نہیں ہیں۔ تو یہ میں نہیں مانتا۔ ٹریڈیشن میں جب اورل ہی چلا اور میں یہ سمجھتا ہوں، میرا یہ زاتی خیال ہے کہ یہ اورل ٹریڈیشن پرنٹڈ ورڈ کے راستے سے ہو کر الیکٹرانک میڈیا کی معرفت اورل ٹریڈیشن میں تبدیل ہو رہی ہے۔ہونا چاہیئے، بشرطیکہ اس کا روپ 
بہروپ ویسا ہونا چاہیئے جس طرح ابتدائی قدیم زمانے سے ہے۔

سوال: ماڈرن ورشن میں مۤیں سمجھتا ہوں اس کا روپ یقینا ہو گا۔ لیکن یہ ہیومن پریسینس کی بات ہے۔ جو عوام تھے، اورل ٹریڈیشن میں موجود تھے۔ اس کو ہم کیسے ریوائیو کریں؟

جواب: اس کو ہم ریوائیو کر سکیں گے۔ بالکل دوبارہ جنم لینے سے کر سکیں گے۔ جہاں انسان انسان سے ملے گا۔ انسان انسان سے بات کرے گا۔ ورنہ ہم اپنی ہر سوچ کو ریالائز کرتے ہی رہ جائیں گے۔

سوال: سر ! میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ جب ہم کسی شخص کی مذمت کرتے ہیں یا اس کا بطلان کرتے ہیں یا کسی شخص کو برا بھلا کہتے ہیں تو کیا ہمارے ذہن میں یہ آرزو تو نہیں پوشیدہ ہوتی کہ ہم خود ویسا بننا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ حسین آدمی کو کم حسین آدمی رد کرتے ہیں۔ امیر آدمی کو کم امیر آدمی رد کرتا ہے۔ طاقتور کم صحت مند کھلاڑی کو رد کرتا ہے تو کیا اس کے پیچھے کوئی ایسی آرزو تو نہیں ہوتی کہ کاش میں بھی ایسے بن جاتا؟

جواب: کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے۔ میراخیال ہے کہ یقینا اس میں ہے۔ اگر کوئی محروم شخص ہے' کسی بھی اعتبار سے،تو پھر وہ کنڈم کرے گا، لیکن اس کی محرومی کے پیچھے کچھ اسباب ہیں کہ جو جائز نہیں ہیں،مناسب نہیں ہیں یا جس کو معاشرہ دور کرسکتا ہے یا کرنا چاہیئے تو پھر اس کے کنڈم کرنے کا جواز بن جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خالص انسانی بات ہے کہ جو بنیادی محرومی ہے' کسی بھی حوالے ' وہ ایک ری ایکشن(رد عمل) تو جنریٹ کرے گی، تو اب اس سے کیسے بچا جائے۔

سوال: بچنے کی بات بعد میں آتی ہے۔ کیسے پتا لگایا جائے کہ یہ شخص جس بات کا اظہار کررہا ہے اس کے پیچھے عوامل جو تھے، وہ مختلف ہیں، بجائے اس کے کہ وہ ان کو سچ مُچ کنڈم کر رہا ہے۔ ان کے پیچھے یہ آرزو ہے کہ میں بھی ایسا ہوتا جب اس مقام پر بندہ پہنچ جاتا ہے۔ اس مقام کی ایک ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے ایکٹ نہیں کرے گا۔وہ دوسرے نیچے اتار دیں گے۔ جو بندہ غریب ہوتا ہے، ویسا کام کرے گا تو وہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ جب بندہ امیر ہوتا ہے، اس کے پاس پیسہ آتا ہے، دولت آتی ہے۔ ویسا بی حیو نہیں کرے گا تو لوگ اس سے چھین لیں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جب یہ غریب تھا تو بہت اچھا ہوتا تھا۔ اللہ میاں نے اسے دولت دی ہے تو بہیت غلط ہوگیا ہے؟

جواب:برخودار! یہ آدمی جو امیروں کو رن ڈاؤن کررہا ہے کہ دیکھو جی کتنا ظالم ہے۔

سوال: یہ سر! کہیں ایسا تو نہیں کہ حسد بول رہا ہو؟

جواب: حسد بھی بولتا ہے۔ اگر حسد بولتا ہے تو پھر وہ خود ہونا چاہتا ہے نا۔ میں ڈرتا ہوں۔ میرے منہ میں خاک۔ میں کہیں جرات نہیں کرسکتا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ مارکس کچھ اور تھا۔

کوئی بھی نظریہ آدمی جو دیتا ہے، کوئی فلسفہ ہے یا کوئی بات۔ اس کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں، اس بندے کی ذات کے اندر وہ کچھ اور ہی ہو سکتے ہیں۔ مطلب جو اس کے ظاہری نظریات ہیں، وہ بالکل مختلف ہو سکتے ہیں، مثلا یہ بچپن کی محرومی اور شدید غربت مارکسزم کی طرف لے جاتی ہے یا کچھ اور وقت اس نے گزارا ہے۔ کسی اور طریقے سے تو ممکن ہے کہ وہ کوئی اور نظریہ اختیار کرلے تو اب وہ اس بندے کی سٹڈی بن جائے گی۔مسئلہ تو یہ ہے کہ جو اس نے پیش کیا ہے، وہ کیا ہے؟ اس کو الگ سطح پر جانچیں۔ آپ کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں اگی ہیومن ڈگنٹی کو انشور کر لیں، ہر آدمی کی عزت کو بحال کر دیا جائے تو پھر ایسی صورتحال بن جائے گی۔ پھر کنڈم کرنے کا سلسلہ کم ہو جائے گا۔

میرے خیال میں بھی کچھ کم ہو جائے گا، لیکن اس کے باوجود بھی ایک بے چینی تو انسان میں رہے گی۔ ہمیشہ رہے گی۔ مثلا ایک بہت اچھا پلیئر ہے۔ اچھی گیم کھیلتا ہے۔ میں نہیں کھیل سکتا، میں تو ایک بوڑھا آدمی ہوں۔ مجھے چاہیئے کہ میں خوش ہوں۔ واہ جی واہ، کیا اچھا کھیلتا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ تو کچھ بھی نہیں، فضول ہے اس میں کیا ہے۔

انسان میں اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر جو خامیاں ہوتی ہیں، ان کو تسلیم نہیں کرتا۔اس میں جو ہے، وہ مجھ میں نہیں تو ایک حسد کہہ سکتے ہیں یا انسان کی شخصی کمزوری کہہ سکتے ہیں۔ کچھ قدرتی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر خوبصورت پیدا ہوتے ہیں۔ وہ مارجن لے کر آتے ہیں اور جس کے پاس مارجن نہیں، وہ کیا کرے؟ صورت کو ایک معیار بنادیا گیا ہے۔ آدمی جتنا بڑا ہو جاتاہے۔ اتنا بڑا اس کا ظرف ہوجاتاہے۔ وہ چیزوں کو برداشت بھی کرلیتا ہے۔ سن بھی لیتا ہے۔ کنڈم بھی نہیں کرتا۔ اگر ایسی صورتحال پیدا کی جائے کہ ہر آدمی کو عزتِ نفس ملے۔ اس کو بڑا ہونے کا احساس دیا جائے تو پھر وہ کنڈم نہیں کرے گا۔ 

بڑا ہونے کے لیے جو لیور آپ اسے عطا کر رہے ہیں، وہ عزتِ نفس کا ہے۔ دولت یا شہرت یا حسن ہی سب کچھ نہیں ہے۔

ابھی تک تو ہماری سوچ کا جو رخ ہے، وہ زرا سا مختلف ہے جس کی ہمیں پریکٹس ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آہستہ آہستہ جب یہ انٹریکشن بڑھے گا جو آپ نے سوال کیا تھا، انسانی لیول کے اوپر اس کے اندر پہنچ کر سوچئے۔

آپ کا بہت بہت شکریہ اور مہربانی کہ آپ تشریف لائے او آپ نے اس پروگرام کو رونق بخشی۔ انشاءاللہ پھر بھی آپ کے ساتھ ملاقات ہو گی۔ اللہ حافظ۔